بھٹکل 17/ مئی (ایس او نیوز) نہ جانے اللہ تعالیٰ کی مشیت کیا ہے کہ اس مرتبہ کورونا کا جو عذاب نازل ہوا ہے، جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس سے نکلنے کی تمام تدابیر ایک طرف ناکام ہورہی ہیں تو دوسری طرف کورونا کے مریضوں کے لئے 'بلیک فنگس' (Black Fungus) نامی ایک نئی جان لیوا مصیبت سامنے آ گئی ہے۔ جو کورونا علاج کےدوران اور اکثر و بیشتر صحتیاب ہوکر اسپتال سے گھر لوٹنے کے بعد لاحق ہوتی ہے۔
وائرس ہے یا کوئی سازش ہے؟ : کورونا وباء کے تعلق سے یہ بحث بھی اپنی جگہ چل رہی ہے کہ واقعی کورونا وائرس کا وجود ہے بھی یا نہیں ؟ کیا یہ انسانی آبادی کم کرنے یا انسانوں کو خوف میں مبتلا کرکے دولت بٹورنے کی عالمی سازش ہے؟ کیا یہ وائرس قدرتی طور پر چمگاڈر سے پھیلا ہے یا پھر یہ چین کی حیاتیاتی ہتھیار (biological weapon) بنانے کی لیباریٹری سے خارج ہوکر عالم انسانیت کے لئے وبال بن گیا ہے؟ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے تو اپنی تحقیق پوری کرنے کے بعد چین سے وائرس خارج ہونے والی بات کو مسترد کردیا ہے اور چمگاڈر سے پھیلنے کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابھی کچھ دن پہلے دنیا کے 18 مشہور سائنسی ماہرین نے ڈبلیو ایچ او کو مراسلہ بھیجا ہے کہ وہ اس معاملے کو اس طرح بند نہ کرے بلکہ لیباریٹری میں وائرس تیار کرنے اور اس کے اخراج کی تھیوری کو سامنے رکھ کر مزید گہرائی سے جانچ کروائے۔
ایک بات تو اٹل ہے: یہ ساری بحث ایک طرف اور یہ اٹل حقیقت ایک طرف رہ جاتی ہے کہ کورونا وائرس موجود ہے اور وہ انسان کو بیماری میں مبتلا کررہا ہے جس سے دیکھتے ہی دیکھتے آدمی موت کے منھ میں چلا جارہا ہے۔ ہندوستان میں اس بیماری کی وجہ سے موت کا رقص جاری ہے اور حکومت، ڈاکٹرس، سائنسدان سب کے سب اپنے تمام تر وسائل کے باوجود اس خورد بینی وجود کے سامنے بے بس ہوکر رہ گئے ہیں۔ اور اس ننھے سے جرثومہ نے انسانوں کی مادی ترقیوں کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے۔
طبی ماہرین کی بے بسی : اس وقت ساری دنیا کے طبی ماہرین SARS-CoV-2 یا کورونا نوویل وائرس کی آئے دن بدلتی ہیئت اور خاصیتوں (میوٹیشن اور ویریئشن) سے پریشان ہیں کیونکہ اس وائرس کا خاتمہ کرنے کے حربے جس تیزی سے بنائے جارہے ہیں اسی رفتار سے وائرس اپنی کیفیت اور خاصیت بدل کر اپنا وجود باقی رکھنے اور خود کو پہلے سے زیادہ ہلاکت خیز بنانے میں کامیاب ہورہا ہے۔
کریلا اور نیم چڑھا : کورونا بذات خود ایک ایسا وائرس ثابت ہوا ہے جسے طبی ماہرین نہ ابھی پوری طرح سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی اس کے علاج کا کوئی موثر اور تیر بہدف نسخہ دریافت کر پائے ہیں ۔ اب ستم یہ ہوا ہے کہ اس کورونا وائرس کے ساتھ کریلا اور نیم چڑھا جیسی بات ہوگئی ہے کیوں کہ انسانی ہلاکتوں میں اس کا ساتھ نبھانے کے لئے 'بلیک فنگس' آگے آیا ہے جو بڑی تیزی اور سرعت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور فوری علاج نہ کرنے پر مریض کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔
کیا ہے یہ 'بلیک فنگس': عام زبان میں پھپھوند کہلانے والے فنگس یا مولڈس مختلف اقسام کے ہوتے ہیں جو انسانی جسم پر کئی طرح کے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔ یہ جو 'بلیک فنگس' انفیکشن ہے،اسے طبی اصطلاح میں 'میوکورمائکوسِس' کہتے ہیں۔ چونکہ اس فنگس سے ہونے والا انفیکشن ناک یا منہ کی اندرونی جھلّی (mucous memberane) پر کالے داغ کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اس لئے بیلک فنگس کہا جاتا ہے۔ یہ انفیکشن خطرناک سرعت کے ساتھ ناک یا منھ سے ہوتا ہوا آنکھوں کی طرف بڑھتا ہے ۔ اور جلد ہی اسے روکنے کے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ دماغ تک پہنچ جاتا ہے، جس کے بعد صحت یابی کی امیدیں کم سے کم تر اور ہلاکت کا خطرہ بہت ہی زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس مرض کی علامات میں سر درد، بخار کے علاوہ آنکھوں کے نیچے شدید درد، ناک بند ہونا یا آنکھوں کی بینائی جزوی طور پر ختم ہونا شامل ہے۔
کیوں ہوتا ہے یہ انفیکشن: بلیک فنگس کوئی نیا فنگس نہیں ہے ، یہ ہمارے ماحول میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ اس کا انفیکشن کورونا کے مریضوں کو ہی لاحق ہو، یہ بھی ضروری نہیں ہے۔ البتہ اس فنگس کے حملہ آور ہونے اور انفیکشن بڑھنے کی وجوہات میں سب سے اہم سبب جسمانی مدافعتی قوت (immunity) کمزور پڑنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل بلیک فنگس، کورونا کی پیچیدگی کا شکار ہونے والے مریضوں میں دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ کورونا مریض کی حالت سنگینی کی طرف چلی جائے تو اس صورت میں انفیکشن اور پیچیدگی کومزید بڑھنے سے روکنے کے لئے 'اسٹیروئڈ' دوائیں بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔ جس کے مضر اثرات سے جسمانی مدافعتی عمل کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس سے بلیک فنگس کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔
آکسیجن اور بلیک فنگس : کورونا مریض کو جب لمبے عرصہ تک مسلسل آکسیجن دیا جاتا ہے اور اگر مشین میں استعمال ہونے والا پانی جراثیم سے پاک (sterile) نہیں ہوتا تو بلیک فنگس وہاں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ناک کے نتھنوں میں جہاں آکسیجن پائپ گزرتا ہے وہاں پر کالے دھبّے کی شکل میں یہ فنگس نمودار ہوتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس موڑ پر معالج کی ذرا سی غفلت مریض کے لئے بہت ہی زیادہ پیچیدگی اور ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔
ملک میں بلیک فنگس کی صورتحال : ہمارے ملک کی مختلف ریاستوں سے کورونا علاج کے لئے اسپتالوں میں داخل اور آکسیجن پر رکھے گئے مریضوں میں بلیک فنگس انفیکشن کی رپورٹس ملنے لگی ہیں۔ جن میں گجرات، مہاراشٹر، دہلی کے علاوہ اب کرناٹکا کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔ گجرات سے ملی ایک خبر کے مطابق سورت شہر میں 15 دن کے عرصہ میں بلیک فنگس کے 40 مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے 8 مریضوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ جبکہ مہاراشٹرا کے وزیرصحت راجیش ٹوپے نے 11 مئی کو ایک بیان میں کہا کہ ریاست میں اس وقت بلیک فنگس کے 2000 مریض موجود ہونے کا اندیشہ ہے۔
کرناٹک میں بلیک فنگس انفیکشن : کرناٹک کے وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر کا کہنا ہے کہ "لوگ ابھی کورونا سے ابھر نہیں پائے ہیں اور اب یہ بلیگ فنگس کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس انفیکشن سے مریضوں کی جانیں جا رہی ہیں اور بری بات یہ ہے کہ اس انفیکشن کے لئے درکار دوائیں ہمارے ملک میں دستیاب نہیں ہیں۔ ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس مرض کے لئے درکار انجکشن کی 20,000 بوتلیں فراہم کی جائیں۔"
کتنے افراد متاثر ہیں : وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر نے یہ بھی کہا کہ پوری ریاست میں کتنے افراد بلیک فنگس سے متاثر ہوئے ہیں اس کی پوری تفصیلات ابھی دستیاب نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر کورونا کے مریض نجی اسپتالوں میں زیر علاج رہے ہیں اس لئے وہاں سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس انفیکشن سے متعلق ضروری معلومات اکٹھا کرنے کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایک رپورٹَ کے مطابق منگلورو کے سرکاری وینلاک ہاسپٹل میں بلیک فنگس کے چار مریض پائے گئے ہیں۔ جبکہ بنگلورو کے منٹو آئی ہاسپٹل میں اب تک بلیک فنگس کے 14 مریضوں کا علاج کیے جانے کی خبر ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بنگلورو کے ہی وکٹوریہ ہاسپٹل کووڈ وارڈ میں 7 اور دیگر اسپتالوں میں 50 بلیک فنگس کے مریض فی الحال زیر علاج ہیں۔
کتنا ہلاکت خیز ہے یہ فنگس : بلیک فنگس سے ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کرناٹکا میں گزشتہ کووڈ کی پہلی لہر کے دوران علاج اور صحت یابی کے بعد جن 8 مریضوں کو بلیک فنگس انفیکشن لاحق ہوا تھا ان سب کا علاج تو کیا گیا مگر صرف دو مریض زندہ بچ سکے باقی 6 مریضوں کی جان بچانا ممکن نہیں ہوا۔ کرناٹک کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ بنگلورو کے بورنگ اسپتال میں بلیک فنگس انفیکشن کا علاج تجرباتی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے تین تا چار ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جو اس کے علاج کے طریقہ کار پر ڈاکٹروں کو ضروری مشورے دے گی اور رہنمائی کرے گی۔ اس تجرباتی طریقہ کو ریاست کے دوسرے اضلاع میں بھی جلد ہی اپنایا جائے گا۔
کیسے کیا جاتا ہے علاج : جب بلیک فنگس حملہ آور ہوتا ہے تو بروقت طبی مداخلت ضروری ہوجاتی ہے اور شروعات میں ہی اس کے پھیلاو کو روکنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ یہ آنکھوں میں داخل ہوکر قوت بینائی چھین لیتا ہے۔ یہاں تک آنکھیں نکالنے کی نوبت آسکتی ہے۔ اسی طرح آگے بڑھ کر یہ دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے لئے ابتدائی طور پر روزانہ انجکشن لگوائے جاتے ہیں۔ جو کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ علاج 3 ہفتوں سے 7 ہفتوں تک چل سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ابتدائی دور میں علاج شروع کرنے پر 2 سے 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد خرچ آ سکتا ہے۔
سرجری ناگزیر ہوسکتی ہے : اس مرض کے علاج کے لئے ای این ٹی اور آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات ضروری ہوتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انفیکشن دواوں سے قابو میں نہ آئے اور مریض کی ہلاکت روکنی ہو تو اس کا واحد علاج چہرے پر سرجری کرنا ہے اور جہاں انفیکشن لگ گیا ہے اس حصّے کے علاوہ اس کے اطراف کے حصے کو کاٹ کر نکال دینا ہے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ دماغ تک کے ایک حصہ کو کاٹنے کی نوبت آسکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح بغیر وقت گنوائے سرجری کرنے اور چہرے کے مختلف حصے کو کاٹ کر نکالنے کی وجہ سے چہرہ تو ہمیشہ کے لئے بدنما ہوجاتا ہے، مگر انسان کی جان بچانا ممکن ہوجاتا ہے ۔
(مضمون نگار پیشہ سے ڈاکٹر ہیں اور فری لانسنگ بھی کرتے ہیں، ان کے مضامین معروف اُردو اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔ ان سے موبائل نمبر 9986300865 یا ای میل haneefshabab@gmail.com پر رابطہ کرسکتے ہیں)